ہائی کورٹ کی تاریخ

1866ء  سے قائم شدہ اپنے پیش رو کے نقش ِ قدم پر استوار لاہور ہائی کورٹ کا باضابطہ قیام 21مارچ 1919؁ء کو عمل میں لایا گیا  1973کے آئین ِ پاکستان کی شق 175  (2)  میں ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار سے متعلق تفصیلات فراہم کی گئیں ہیں۔  بنیادی طور پر شہر لاہور میں قائم ہائی کورٹ کے تین بینچز دیگر شہروں راولپنڈی، ملتان اور بہاولپورمیں بھی قائم ہیں۔

                        لاہور ہائی کورٹ کی تاریخ پچھلے ایک سو پچاس سالوں سے زائد عرصہ پر محیط ہے۔ 1830تک، پنجاب کے مشہور سکھ حکمران مہاراجہ رنجیت سنگھ نے صوبے بھر میں آزاد سرداروں کے زیر اقتدار ان گنت چھوٹی ریاستوں کو مستحکم کر دیا۔  اِس استحکام سے قبل نہ تو کوئی قانونی عدالتیں تھیں،  نہ ہی کوئی تحریری قوانین تھے اور نہ ہی ان کو برقرار رکھنے یا نافذ کرنے کا کوئی مستند اور بااختیار ادارہ تھا۔  سردار اپنی خواہشات اور مرضی کے مطابق مقدمات کا فیصلہ کرتے تھے تاہم ثالثان کے ذریعہ سول اور فوجداری تنازعات کے حل کے لئے رسم و رواج کے کچھ اصول رائج تھے لیکن وہ کسی بھی طرح سے یکساں یا معتبرنہ تھے۔

یہاں تک کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور میں بھی کوئی بڑی عدالتی اصلاحات متعارف نہ کروائی گئیں۔ اُ س کے دور میں صدر کورٹ (چیف کورٹ) لاہور ہی  واحد عدالت تھی۔ مالی اور فوجی امور سے نمٹنے کے لئے افسران موجود تھے، لیکن خاص طور پر دیوانی یا فوجداری تصفیوں کے لئے کوئی باضابطہ افسر نہ تھا۔ پنجاب کورٹس ایکٹ 1884(XVIII) نے پنجاب کورٹس ایک 1877کو منسوخ کرتے ہوئے، نہ صرف ماتحت عدالتوں کی ماہیت اور اختیار ِ سماعت کو موضوع بنایا بلکہ چیف کورٹ کے قیام اور اختیارِ سماعت کے حوالے سے قانون کو بھی تبدیل کرتے ہوئے اسے مکرّر بیان کیا۔

                        1889؁ء میں کونسل میں ہندوستان کے لئے مقرر کردہ سیکرٹری آف سٹیٹ نے مورخہ25اپریل 1899؁ء کو بذریعہ قرارداد ایک اصول پیش کیا کہ آج کے بعد، ہندوستان کی عدالت ہائے عالیہ میں تعینات چیف جسٹس صاحبان اور دیگر جج صاحبان، ساٹھ سال کی عمرپوری ہونے پر عہدہ خالی کر دیں گے۔ 1911؁ء میں دو اضافی ججز، 1917؁ء میں تین اضافی ججز، جبکہ 1918؁ء میں چار اضافی ججز کے ساتھ، ہائی کورٹ میں چار ججز پر مشتمل یہ عارضی تعیناتی کا عمل 1919؁ء تک جاری رہا جبکہ اِسی سال عدالتِ عالیہ کو لیٹر پیٹنٹ (Letter Patent) سے نوازا گیا۔

1911؁ء میں برطانوی پارلیمان نے ہندوستانی ہائی کورٹس ایکٹ 1911؁ء منظور کیا، جس کے مطابق بادشاہ کو برطانوی ہندوستان میں  بصئیغہ ضرورت نئی ہائی کورٹس قائم کرنے اور عارضی طور پر ایڈیشنل جج کو دو سال کے لئے تعینات کرنے کا اختیار حاصل ہو گیا۔ چونکہ چیف کورٹ کا شمار، ہائی کورٹ میں نہ ہو تا تھا، لہذا چیف کورٹ کے تمام اضافی ججز کی عارضی تقرریاں، پنجاب کورٹس ایکٹ 1914,1884اور 1918 (بمطابق مروجہ ترامیم) اور عارضی ججز ایکٹ 1867 (XVI)  کے تحت گورنر جنرل کرتا تھا۔ چار سال بعد، گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ کو نئے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1915 نے منسوخ کر دیا۔ اس نئے قانون میں طے کیا گیا کہ تمام موجودہ ہائی کورٹس جو کہ لیٹرز پیٹنٹ  (letter patent)  کے ذریعے وجود میں آئی تھیں کو اس قانون کے تحت بھی ہائی کورٹس ہی گردانا جائے گا۔ یہ کہ ہر ہائی کورٹ ایک چیف جسٹس اور اُتنے دیگر ججز پر مشتمل ہوگی، جتنے کہ بادشاہ معظم کی جانب سے ضروری خیال کرتے ہوئے مقرر کیے جائیں گے۔  یہ کہ کونسل میں موجود گورنر جنرل، جہاں ضروری خیال کرے گا، دو سال کے عرصہ کے لئے اضافی ججز کی تقرری کر سکے گا اور یہ کہ بشمول چیف جسٹس و اضافی ججز، کسی بھی ہائی کورٹ میں تمام ججز کی تعداد بیس سے زیادہ نہ ہو گی۔  مذکورہ قانون میں یہ بھی طے کیا گیا کہ جج صاحبان اُس وقت تک اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے جب تک اُنہیں بادشاہ معظم کی خوشنودی حاصل رہے گی اور یہ کہ عارضی ججز صاحبان کی تقرری مقامی حکومتیں کر سکیں گی۔

                        نئے قانون کے تحت برطانوی ہندوستان کے کسی بھی حصے میں لیٹرز پیٹنٹ کے ذریعے ہارئی کورٹس قائم کرنے کا اختیار بادشاہ کو دیا گیا۔ بادشاہ کو یہ اختیار بھی دیا گیا کہ وہ اس قانون کے اطلاق کے وقت موجودکسی بھی ہائی کورٹ یا اس قانون کے تابع قائم کی گئی کسی ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار ِ سماعت کو طے کرے۔  گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ1915کی دفعہ 113کے تحت لاہور ہائی کورٹ کے قیام کے حوالے سے لیٹرز پیٹنٹ کی منظوری دی گئی۔

 

The Letters Patent Act, 1919

1919؁ء میں، لیٹرز پیٹنٹ کے تحت لاہور ہائی کورٹ کا قیام عمل میں آیا، جس کے جج صاحبان کو براہ ِراست بادشاہ معظم نے مقرر کیا۔ اِس صوبائی عدالت کو پہلی مرتبہ کورٹ آف ریکارڈ کے طور پر قائم کرتے ہوئے یہ اختیار بھی دیا گیا کہ اِس کے احکامات کی توہین کے مرتکب افراد کو یہ عدالت سزا بھی دے سکے گی، جبکہ سابقہ چیف کورٹ کے پاس یہ اختیار نہ تھا۔ ہائی کورٹ کے جج صاحبان کی مستقل تعداد سات مقرر کی گئی، جن میں ایک چیف جسٹس جبکہ چھ جونیئر (pusine) جج صاحبان شامل تھے۔  لیٹرز پیٹنٹ کے تحت ہائی کورٹ کا دائرہ سماعت طے کیا گیا جوکہ دہلی اور پنجاب کے صوبوں پر مشتمل تھا  اسے دیوانی اور فوجداری مقدمات کے حوالے سے اعلیٰ ترین عدالت اپیل قرار دیا گیا۔ دیوانی اور فوجداری مقدمات کی سماعت کے حوالے سے اِسے غیر معمولی اختیارِ سماعت حاصل تھا۔  اسے عائلی اور وصیت سے متعلق مقدمات میں بنیادی اختیار ِ سماعت کے علاوہ انتظامی امور میں بھی بنیادی اختیارات حاصل تھے۔ لیٹرز پیٹنٹ  کی دفعہ 10کے تحت کسی ایک جج کے فیصلے کے خلاف اپیل، دو جج صاحبان پر مشتمل بنچ کے روبرو،  دائر کی جا سکتی تھی تا ہم اِ س کے لئے طے شدہ شرائط کو پورا کرنا ضروری تھا۔

                        1921؁ء کے بعد جج صاحبان کے لئے لازمی قرار دیا گیا کہ وہ بوقت ِ تقرری یہ حلف نامہ دیں گے کہ وہ بعد از ریٹائرمنٹ یا سبکدوشی، دوبارہ وکالت نہ کر سکیں گے۔

                        گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935کے ذریعے برطانوی ہندوستان میں متعدد اعلیٰ عدالتوں کی ہیت اور اختیارات میں بنیادی تبدیلیاں کی گئیں۔ نئے قانون کے مطابق جج صاحبان اُس وقت تک اپنے عہدے پر برقرار رہ سکتے تھے جب تک وہ اچھے برتاؤ اور طرزِ عمل کا مظاہرہ کرتے تھے جبکہ اس سے قبل ان کے عہدے کی میعاد بادشاہ کی مرضی و منشا کے تابع تھی۔ سابقہ قانون کے تحت ہائی کورٹ کے لئے زیادہ سے زیادہ بیس ججز کی متعین تعداد کو تبدیل کر کے یہ فیصلہ بادشاہ کی صوابدیدپر چھوڑ دیا گیا کہ وہ ہر ہائی کورٹ کی انفرادی ضرورت کے مطابق علیحدہ طور پر ججز کی تعداد مقرر کر سکے۔ عارضی ججز کی تقرری کا تمامتر اختیار مقامی حکومتوں سے لیکر گورنر جنرل کو دے دیا گیا۔ پرانے نظام کے تحت، چیف جسٹس ہمیشہ ہی بیرسٹر جج ہو تا تھا۔ لیکن نئے قانونی نے اس پابندی کو ختم کر دیا، جس سے سویلین ججز کے لئے بھی چیف جسٹس بننے کی راہ کھل گئی۔ نئے قانون کے تحت، ہائی کورٹ کے ججز کے لئے عمر کی حد 60سال مقرر کر دی گئی۔  گورنمنٹ آف انڈیا (ہائی کورٹ ججز) آرڈر1937 کے تحت لاہور ہائی کورٹ کے لئے ججز کی زیادہ سے زیادہ تعداد15 مقرر کی گئی۔ مذکورہ آرڈر کے مطابق لاہور ہائی کورٹ سمیت مختلف ہائی کورٹس میں تعینات مختلف ججز کی تنخواہ، پنشن، گریجویٹی اور چھٹیوں وغیرہ کے حوالے سے معیار مقرر کیے گئے۔

ہائی کورٹ کی تقسیم

                        1947؁ء کے وسط میں قانون آزادی ہند1947کے عنوان سے اہم ترین قانون کے ذریعے برطانوی پارلیمنٹ نے پاکستان اور ہندوستان کے نام سے دو خود مختار ریاستیں قائم کیں۔  اِسی قانون کے ایک ذیلی قانون ہائی کورٹس (پنجاب) آرڈر1947کے ذریعے 15اگست 1947کومشرقی پنجاب (انڈیا) کے لئے ایک نئی ہائی کورٹ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ دریں اثناء ہائی کورٹ (لاہور) آرڈر1947نے لاہور ہائی کورٹ کے تمام حقوق، اختیارات اور مراعات جوکہ عدالتِ عالیہ لاہور میں پہلے سے مستعمل تھے کے تسلسل کو محفوظ قرار دیا۔  ریاست ِ پاکستان کے گورنر جنرل کو لاہور ہائی کورٹ کے ججز کی تقرری وغیرہ کے معاملات میں بادشاہ کا متبادل قرار دیا گیا۔  بعد از تقسیم، گورنر جنرل پاکستان نے 28ستمبر 1948 سے لاہور ہائی کورٹ کیلئے چھ مستقل اور ایک اضافی جج کی تعداد مقرر کر دی۔ 

                        6 جولائی 1954کو گورنمنٹ آف انڈیا(ترمیمی) ایکٹ 1954کی منظوری دی گئی۔ اس قانون کے ذریعے پاکستان کی تمام ہائی کورٹس کو پہلی مرتبہ اختیار دیا گیا کہ کسی شخص یا ادارے بشمول حکومت کو بذریعہ رِٹ حُکم دے سکیں گی کہ۔

-i               زیر حراست کسی شخص کو اُس کے سامنے پیش کیا جائے(Writ of Habeas Corpus)

-ii          کوئی ایسا کام کرے جو قانون کی رُو سے اُس پر لازم تھے۔ (Writ of Mandamus)

 -iii    کوئی ایسا کام کرنے سے اجتناب کرے،  جس کے کرنے کی اُسے قانون میں اجازت نہیں۔(Writ of Prohibition)

-iv          وہ ظاہر کرے کہ وہ کس قانونی اختیار کے تحت اس عہدے پر فائز ہونے کی دعویدار ہے۔(Writ of Quo-warranto)

-v               کسی شخص کی طرف سے کیا ہوا کوئی فعل یا کی ہوئی کوئی کارروائی قانونی اختیار کے بغیر کی گئی ہے اور کوئی قانونی اثر نہیں رکھتی۔ (Writ of Certioari)

مغربی پاکستان ہائی کورٹ 

30ستمبر1955کو آئین ساز اسمبلی نے قیام مغربی پاکستان ایکٹ 1955؁ منظور کیا۔ مغربی پاکستان ایکٹ1955کی دفعہ 07کے تحت گورنر جنرل پاکستان کو اختیار دیا گیا کہ وہ لاہور ہائی کورٹ کو صوبہ مغربی پاکستان کے ساتھ تبدیل کر دے۔

                        مغربی پاکستان ہائی کورٹ (Establishment)آرڈر 1955؁ء (جو کہ 14اکتوبر1955؁ء کو نافذ ہوا) نے مغربی پاکستان ہائی کورٹ کے قیام کی قانونی بنیاد فراہم کی اور اس کے دائرہ اختیار و سماعت کے حوالے سے متعدد معاملات کو موضوع بنایا۔ اس قانون کے تحت مغربی پاکستان کی نئی ہائی کورٹ کو بنیادی سماعت، اپیل اور دیگر معاملات میں مغربی پاکستان کے تمام علاقوں پر مشتمل وہی اختیارات حاصل تھے جو کہ اِس آرڈرکے نفاذ سے قبل لاہور ہائی کورٹ کو حاصل تھے۔ مغربی پاکستان ہائی کورٹ (Establishment)آرڈر 1955؁ء کی دفعات 6اور 7کے تحت سندھ چیف کورٹ اور جوڈیشل کمشنرز کورٹ پشاور کے ججز، مغربی پاکستان ہائی کورٹ کے ججز قرار پائے گئے اور اُن کی ملازمت کی شرائط و ضوابط اور مراعات اُس معیار سے کم نہ رکھے گئے، جو کہ انہیں تبادلہ سے قبل حاصل تھے۔ اضافی یا عارضی ججز، مغربی پاکستان ہائی کورٹ کے قیام کے فوراً بعد مغربی پاکستان ہائی کورٹ کے اضافی یا عارضی ججز قرار پائے گئے۔

 دستور ِپاکستان  1956؁ء

                 1956 کے آئین کے مطابق دونوں صوبوں کے لئے ایک ایک ہائی کورٹ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ مشرقی بنگال اور مغربی پاکستان میں واقع ہائی کورٹس کو بوقت نفاذِ آئین بالترتیب مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کی ہائی کورٹس قرار دیا گیا۔ آئین کے مطابق دنوں ہائی کورٹس کا دائرہ سماعت و اختیار وہی رکھا گیا جو کہ آئین کے نفاذ سے قبل تھا۔  اِسی طرح دونوں صوبائی ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان اور دیگر جج صاحبان ملازمت کی سابقہ شرائط اور مراعات کے ساتھ اپنے عہدوں پر بدستور متمکن رہے۔ 

                        گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935کے برعکس نئے آئین کے تحت دونوں صوبائی ہائی کورٹس کو عدالت ریکارڈ قرار دیا گیا اور گورنر جنرل کی بجائے، صدر ِ پاکستان کو مستقل ججز اور قائم مقام ججز کی تقرری کا اختیار دیا گیا۔ نئے آئین کے مطابق ہائی کورٹس کے ججز اپنے اچھے رویہ اور برتاؤ کے ساتھ عہدہ پر برقرار رہ سکتے تھے جبکہ اُن کی ریٹائرمنٹ کی عمر60سال مقرر کی گئی تھی۔  شومئی قسمت، ہر دو ہائی کورٹس میں نئے آئین کے تحت، عارضی یا اضافی ججز تعیناتی کے حوالے سے کوئی گنجائش نہ رکھی گئی۔

                        دونوں ہائی کورٹس میں ججزکی تعیناتی کا معیار تبدیل کرتے ہوئے اُن کے لئے پاکستان کا شہری ہونا لازمی قرار دیا گیا۔ بیرسٹر اور وکیل (pleader) کے مروجہ فرق کو ختم کر کے دونوں کو ایک ہی شمار کرتے ہوئے اُن کے لئے ہائی کورٹ میں بطور جج تعیناتی کے لئے دونوں یا ایک ہائی کورٹ میں دس سالہ وکالتی تجربہ معیار قرار دیا گیا۔ اِسی طرح بطور جج تعیناتی کے لے برطانوی ہندوستان میں بطور جوڈیشل آفیسر(جو کہ ماتحت جج یا سمال کاز کورٹ کے جج کے عہدے سے کم نہ ہو) پانچ سال کی ملازمت کی شرط کو بڑھا کر دس سال کر دیا گیا۔  جوڈیشل آفیسرزکے حوالے سے دو مختلف تشریحات کو بھی ختم کر دیا گیا۔  صدر کی جانب سے تمام ججز کی تقرری کو چیف جسٹس آف پاکستان،  متعلقہ صوبہ کے گورنر جنرل اور متعلقہ صوبہ کی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے مشورہ سے مشروط کیا گیا۔ اِسی طرح آئین میں صدر کو یہ اختیار بھی دیا گیا کہ وہ کسی جج کے ایک ہائی کورٹ سے دوسری ہائی کورٹ میں تبادلہ کر سکے۔  تاہم صدر کو اِس اخیتار کے استعمال سے قبل متعلقہ جج کی رضامندی کے علاوہ، چیف جسٹس آف پاکستان اور متعلقہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے مشورہ کرنے کا بھی پابند کیا گیا۔

                        دونوں ہائی کورٹس کو اپنے علاقائی دائرہ سماعت میں کسی شخص، ادارے یا حکومت کو رِٹ کا اختیار استعمال کرتے ہوئے کوئی حکم دینے یا آئین کے حصہ II میں موجودہ بنیادی حقوق کے نفاذ کے لئے یا کسی بھی دیگر عمومی معاملہ میں احکامات جاری کرنے کا اختیار دیا گیا۔

دستورِ پاکستان 1962؁ء

یکم مارچ 1962؁ء کو پاکستان کے دوسرے آئین کو متعارف کرایا گیا، جس کے باقاعدہ نفاذ کے لئے 8 جون 1962کو قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس منعقد ہوا۔ آئین کے مؤثر نفاذ کی راہ میں حائل روکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے متعدد احکامات جاری کئے گئے۔ اِس آئین کے تحت دونوں صوبوں کے لئے ایک ایک ہائی کورٹ قائم کی گئی۔ ہائی کورٹس میں ججز کی تعیناتی کے لئے، کم از کم دس سالہ وکالتی تجربہ یا کم از کم تین سال بطور ڈسٹرکٹ جج یا قانون میں بیان کردہ کسی سول سروس میں خدمات کو معیار قرار دیا گیا۔ آئین کے آرٹیکل 92 کے تحت اولین طور پر سول سروس کو قانون میں بیان کردہ سروس قرار نہ دیا گیا تھا۔ نئے آئین میں سابقہ آئین کے برعکس اضافی ججز کی تعیناتی کی گنجائش دی گئی۔ سابقہ آئین میں عدالت ِ عظمی کے رو برو داد رسی کے حصول کے لئے رجوع کرنا بنیادی حق قرار دیا گیاتھا۔ تا ہم نئے آئین میں بنیادی حقوق کے نفاذ کا اختیار، ہائی کورٹس کو تفویض کر دیا گیا۔ اِس تبدیلی سے یہ اَمر طے ہوا کہ ہر حق بنیادی حق نہ ہے بلکہ بنیادی حق کی تشریح اور نفاذ ہائی کورٹ کی صوابدید پر مشتمل ہے۔ سابقہ آئین میں ہائی کورٹس کے رِٹ اختیارِ سماعت کے تابع، وسیع تر اختیارات کو بہت حد تک کم کر دیا گیا۔ نئے آئین میں یہ شرط لاگو کر دی گئی کہ جہاں کسی شخص کو کسی قانون کے تحت مناسب داد رسی پہلے سے موجود ہو گی و ہاں رِٹ کا اختیار استعمال نہ ہو سکے گا۔ نئے آئین میں مزید طے کیا گیاے کہ دفاع پاکستان یا کسی دیگر حکومتی سروس سے منسلک افراد کی ملازمت سے متعلق کسی شرط یا ضابطے کو رِٹ سماعت کے دوران اُس وقت موضوع نہ بنایا جا سکے گا جب تک کہ آئین خود اس کی اجازت نہ دیتا ہو۔ بہت سے دیگر معاملات میں کہا جا سکتا ہے کہ نئے آئین کا ہائی کورٹس سے متعلق باب بہت کم حد تک سابقہ آئین سے مماثل تھا جبکہ زیادہ حد تک یہ سابقہ آئین کے متوازی تھا۔ ہائی کورٹ ججز (retiring age) حُکم (صدارتی حکم 8) 1969 کے تحت آئین کے آرٹیکل 178کے حوالے سے ابہام کو دور کیا گیا۔ صدارتی حکم نامہ 1969کے تحت قرار دیا گیا کہ ہائی کورٹ کا جج 62 سال کی عمر تک عہدہ پر برقرار رہیگا، تا وقت کہ وہ خود دئیے گئے طریقہ کار کے مطابق استعفیٰ نہ دے یا اُسے ہٹانہ دیا جائے۔

دستور ِ پاکستان 1973؁ء

اسلامی جمہوریہ پاکستان کا دستور 1973؁ء 14اگست 1973کو نافذ ہوا۔ گوکہ سینئر ججوں کی کی مدت اور شرائط سے متعلق کوئی خاص تبدیلی نہیں کی گئی تا ہم ”عدلیہ سے متعلق عمومی دفعات“ کے عنوان سے ایک خصوصی باب شامل کیا گیا جس کے تحت سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججز کی تنخواہوں اور عہدوں کی دیگر شرائط و ضوابط کو آئینی تحفظ فراہم کیا گیا جب تک کسی جج کو عہدہ کی مدت مکمل کیے ہوئے یا مستعفی ہوئے دو برس کا عرصہ نہ گذر چکا ہو اُسے حکومتِ پاکستان کے تابع یا کسی بھی دیگر نوعیت کا منفعت بخش عہدہ لینے سے منع کیا گیا۔ البتہ عدالتی اور نیم عدالتی عہدہ جات اور چیف الیکشن کمشنر یا بطور رکن اسلامی نظریاتی کونسل وہ یہ خدمات انجام دے سکتے ہیں۔ مستقل ججوں کو عہد ہ کی مدت مکمل ہونے کے بعد اُن عدالتوں کے روبرو بطور وکیل پیش ہونے سے بھی منع کیا گیا جہاں وہ بطور جج عہدہ پر فائز رہے ہوں۔ مذکورہ باب میں ہی ایک اعلیٰ سطحی سپریم جوڈیشل کونسل کا قیام بھی عمل میں لایا گیا جوکہ چیف جسٹس آف پاکستان، سپریم کورٹ کے دو سینئر ترین جج صاحبان اور ہائی کورٹ کے دو سینئر ترین چیف جسٹس صاحبان پر مشتمل ہے۔ کونسل مجاز ادارہ ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کیلئے ضابطہ اخلاق جاری کرے، بدعنوانی یا ذہنی و جسمانی معذوری کے الزامات کے تحت بھجوائے گئے صدرِ مملکت کے اعلیٰ عدلیہ سے متعلق ریفرنس پر انکوائری عمل میں لائے اور انھیں عہدہ سے برطرف کرنے کے بارے میں سفارشات بھجوائے۔ اپریل 1974؁ء میں ہائی کورٹ (ٹریولنگ الاؤنس) آرڈر 4 1965؁ء میں کچھ مزید ترامیم کی گئیں جن کے تحت ججوں کے قابلِ اجازت سفری الاؤنس میں اضافہ کیا گیا جب کہ وہ اپنی جائے رہائش سے جائے تعیناتی سفر کریں یا ملازمت سے سبکدوشی کے بعد جائے تعیناتی سے واپس جاتے ہوئے اپنی جائے رہائش کی جانب سفر کریں۔ مئی 1974 ؁ء میں ہائی کورٹ سے متعلقہ آئین ِ پاکستان 1973؁ء میں کچھ اہم ترامیم کی گئیں جس کے تحت ہائی کورٹ کے ججز کو عارضی طور پر ایک ہائی کورٹ سے دوسری ہائی کورٹ میں تعینات کرنے کی اجازت دئی گئی تھی۔ دسمبر 1974؁ء میں جسٹس جاوید اقبال کی زیر صدارت انتظامیہ کمیٹی نے اردو زبان کو آئین کے تحت قومی زبان قرار دئیے جانے کے تناظر میں وکلاء کو اردو میں دلائل دینے کی اجازت دی بشرطیکہ وہ ایسا کرنا چاہیں۔ 13دسمبر1976؁ء کو پانچویں آئینی ترامیم ایکٹ 1976 (LXII) ؁ء کا نفاذ عمل میں آیا جس کے تحت آرٹیکل 195کے دائرہ کار کو وسیع کیا گیا اور یہ قرار دیا گیا کہ سپریم کورٹ کا چیف جسٹس اگر پانچ سال مسلسل چیف جسٹس رہے اوراسی طرح کسی بھی صوبائی ہائی کورٹ کا چیف جسٹس اگر 4سال سے عہدہ پرفائز ہو تو ایسی صورت میں وہ عہدہ سے سبکدوش ہو جائیں گے، تاو قتیکہ وہ اس مدت سے قبل ریٹائرمنٹ کے لئے مقرر کردہ عمر بالترتیب 65سال اور 62سال کی حد مکمل کر لیں۔ ترمیم کے تحت چیف جسٹس کو اختیار دیا گیا کہ وہ مقررہ معیار کے مکمل ہونے پر سبکدوشی اختیار کر لیں اور پنشن اور دیگر مراعات کے اسی طرح حقدار بن جائیں جیسا کہ وہ 65اور 62 سال کی عمر مکمل ہونے پر ہو سکتے ہیں یا پھر سبکدوش ہونے کے بجائے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے سینئر ترین جج کے عہدہ پر فائز ہو جائیں اور ایسی صورت میں وہ تنخواہ اور مراعات حاصل کرتے رہیں جو وہ بطور چیف جسٹس جاصل کر رہے تھے۔ آرٹیکل 206 کا دائرہ کار وسیع کیا گیا جس کے تحت اگر کوئی ہائی کورٹ کا جج سپریم کورٹ میں اپنی تعیناتی کو قبول نہ کرے تو وہ اپنے عہدہ سے سبکدوش تصور کیا جائے گا اور ایسی صورت میں وہ اپنی مدت ملازمت بطو ر جج اور بطور دیگر سرکاری عہدہ دار کے تناسب سے وصول کرنے کا حقدار ہو گا۔ یہ ترامیم چیف جسٹس آف پاکستان کی وزیر اعظم کو کی گئی خصوصی درخواست پر عمل میں لائی گی تھیں کیونکہ ماضی میں ایسا ہو چکا تھا کہ کسی نہ کسی عذر کو بیان کرتے ہوئے ججز نے سپریم کورٹ میں آنے سے معذرت کر لی تھی۔ جس کی وہ سے سپریم کورٹ کا ادارہ قابل ججز سے محروم رہ گیا تھا جوکہ مفادِ عامہ کے تحت اسکا حق تھا۔ یہ معاملہ اس وقت زیادہ شدت سے سامنے آیا، جب چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس سردار محمد اقبال نے ذاتی وجوہات کی بنیاد پر سپریم کورٹ میں شامل ہونے سے معذرت کر لی تھی۔ آرٹیکل 195میں ترمیم نے جسٹس سردار محمد اقبال کے بطور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ برقرار رہنے پر براہِ راست اثر ڈالا جس پر انہوں نے عہدہ ملازمت سے علیحدگی کا انتخاب کیا۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے ججوں کی سبکدوشی اور استعفیٰ سے متعلق کی جانے والی آئینی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ آئین کے آرٹیکل 199 کی کلاز 3-A جو کہ بنیادی حقوق پر عملددآمد کے حوالے سے ہائی کورٹ کے رٹ جاری کرنے کے اختیارات کے متعلق تھی میں بھی ترمیم کر دی گئی۔ اس ترمیم سے ہائی کورٹ کے رِٹ کے اختیار پر شدیدقسم کی قدغن عائد کر دی گئی۔ اس ترمیم کے مطابق ہائی کور ٹ کو مندرجہ ذیل کاموں سے منع کر دیا گیا۔ (ا) نظر بندی سے متعلقہ کسی قانون کے تحت کی جانے والی کسی شخص کی حفاظتی نظر بندی کو روکے یا ایسے حکم کو معطل کرنے کی بابت کوئی حکم جاری کر سکے۔ (ب) نظربندی کے قانون کے تحت کسی نظر بند شخص کو ضمانت پر رہائی دے سکے۔ (ج) کسی ایسے شخص کو ضمانت پر رہائی دے دیں یا کسی کو حراست میں لئے جانے کے حکم پر عملدرآمد کو معطل کرے کہ جس کے خلاف کسی ٹربیونل یا عدالت میں کوئی مقدمہ یا استغاثہ داخل کیا گیا ہو۔ (د) کسی پولیس اسٹیشن میں مقدمہ کے اندراجسے روکنے کی بابت حکم دے یا کسی عدالتِ یا ٹربیونل کے روبرو رپورٹ یا استغاثہ داخل کے جانے سے روکنے کا حکم دے۔ (ر) کوئی بھی ایساعبوری حکم جو(ا) تا (د) تک بیان کے گئے کسی شخص سے متعلق ہو۔ ترمیم کے تحت قراردیا گیا کہ چوتھی آئینی ترمیم سے پہلے ہائی کورٹ میں زیر التواء ایسے معاملات خو د بخود منسوخ تصور کیے جائیں گے۔ یہ ترمیم سپریم کورٹ کے روبرو زیر التواء اُن اپیلوں اور اجازت برائے دائرگی اپیل کی درخواستوں کے بارے میں بھی نافذ العمل قرار دی گئی جو کہ انہی احکامات سے متعلق تھیں جو کہ کلاز 3-Aمیں شمار ہوتے تھے اور آئینی ترمیم سے فوری پہلے دائر کی جا چکی تھیں۔ 21اگست 1978؁ء کو چھٹی آئینی ترمیم Laws (continuance in force) order, CMLA 1 of 1977 منظور کی گئی جس کے تحت آرٹیکل 195کلاز 3میں فراہم کردہ عدلیہ کے انتظامیہ سے علیحدگی کے لئے دی گئی معیاد کار میں اضافہ کر دیا گیا۔ ستمبر میں ہائی کورٹ کی انتظامی کمیٹی نے ہائی کورٹ کے رولز اینڈ آرڈر میں ترمیم کی منظوری دی جس کی وجہ سے عدالتوں میں انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو زبان میں دلائل دینے اور اردو دستاویز ات داخل کرنے کی راہ ہموار ہوئی۔ اعلیٰ عدلیہ کے شریعت بینچز آرڈر 22، P.O 1978؁ء کے تحت دیگر ہائی کورٹس کی طرح لاہور ہائی کورٹ میں بھی شریعت بنچ تشکیل دیا گیا جوکہ عدلیہ میں اسلامی رجحان راغب کرنے کی بابت فیصلے کا نتیجہ تھا۔ شریعت بنچ تین مسلم ججز پر مشتمل تھا جن کی تقرری چیف جسٹس کی سفارش پر صدر پاکستان کرتے تھے۔ ایک شریعت ایپلیٹ بنچ سپریم کورٹ میں بھی تشکیل دیا گیا تھا جو کہ تین مسلم ججز پر مشتمل تھا اور جن کی تقرری صدر پاکستان چیف جسٹس آف پاکستان کی سفارش پر کرتے تھے۔ شریعت بنچ کو یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ اس بات کا جائزہ لے اور فیصلہ صادر کرے کہ آیا کوئی قانون یا قانونی دفعات ایسی تو نہیں جو اُن اسلامی اصولوں سے متصادم ہوں جن کا ذکر قرآن اور سنت نبوی میں بیان کیے گئے ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 175(3) کا تقاضا پورا کرتے ہوئے عدلیہ کی انتظامیہ سے علیحدگی کی طرف پہلا قدم اٹھاتے ہوئے، مئی 1979؁ء میں حکومت پنجاب نے عبوری طور پر 41 ایکسٹرا اسٹنٹ کمشنر زکی خدمات کو ہائی کورٹ کے سپرد کر دیا تا کہ دفعہ 30 ضابطہ فوجداری کے تحت بطور فوجداری مجسٹریٹ ان کی تعیناتی کی جا سکے اور فوجداری مقدمات نمٹائے جا سکیں۔ جبکہ انتظامی طورپریہ افسران ابھی بھی حکومت کے انتظامی اختیار میں ہی تھے اور ان کی خدمات کو کسی بھی وقت انتظامیہ میں واپس لیا جا سکتا تھا۔ وقت گذارنے کے ساتھ ساتھ اُن کے عدلیہ میں شامل ہوئے اور عدلیہ کے انتظامیہ سے علیحدہ ہوئے بغیر ایسے مجسٹریٹوں کی تعدادکم ہوتی چلی گئی۔ یکم نومبر1980کو 15ویں صدی ہجری کا پہلادن تھا۔ اسی روز سے The Supeior Courts (Courts Dress and mode of address) order P.O of 1980 کا نفاذ کیا گیا۔ یہ قانون اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے عدالتی لباس اور انہیں عدالت میں مخاطب کرنے سے متعلق تھا۔ اس قانون کے مطابق اعلیٰ عدلیہ کے جج کو دورانِ کارروائی عدالت سیاہ شیروانی (بغیرپٹی دار جھالر) اور موسم سرما میں ایک سیاہ گاؤن پہننا تھا جبکہ سرکاری اور دیگر رسمی تقریبات میں اُسے پٹی دار جھالر کے بغیر سیاہ شیروانی زیب تن کرنا تھی۔ اگر کسی جج کو ٹوپی (Headgear) پہننا ہوتے تو اس قانون کی رو سے وہ جناح کیپ ہی پہن سکتا تھا۔ عدالت میں جج کو مخاطب کرنے کے لئے، ”مائی لارڈ“ اور ”یور لارڈ شپ“ کے استعمال کو روک دیا گیا تھا اور کیا گیا کہ جج کو ”سر“ یا جنابِ والا یا جنابِ عالی کے نام سے مخاطب کیا جا سکتا ہے جبکہ فیصلوں، خط و کتابت اور دیگر تحریروں میں جج کو ”مسٹر جسٹس“ کہہ کر مخاطب کیا جائے۔ یکم جنوری 1981 ؁ء کے ہائی کورٹ اسٹیبلشمنٹ آرڈر (پنجاب) آرڈینس 1981؁ء کے ذریعے فوری طور پر لاہور ہائی کورٹ کے بہاولپور، ملتان اور راولپنڈی میں مستقل بنچ قائم کیے گئے اسی آرڈیننس کے ذریعے ہائی کورٹ اسٹیبلشمنٹ آرڈر P.O-8/1970کے آرٹیکل 3کی کلاز 3میں ترمیم کرتے ہوئے ایس نئی کلاز 3,3A,3B اور 3C سے تبدیل کیا گیا اور آرٹیکل 7-A بھی ایزاد کیا گیا۔ آرٹیکل 3 کی ذیلی دفعہ 3کے تحت لاہور ہائی کورٹ کے ججز کو پرنسپل سیٹ اور علاقائی بنچوں پر بیٹھنے کا پابند بنایا گیا تھا ’تاہم وہ صوبہ بھر میں کسی بھی جگہ سرکٹ کورٹ کی صورت میں سماعت کرنے کا مجاز تھے جو کہ اتنے ججوں پر مشتمل ہو سکتی تھی جو کہ چیف جسٹس وقتاً فوقتاً نامزد کرے۔ ترمیمی کلاز 3-Aکے تحت ہی چیف جسٹس کو یہ اختیار دیاگیا کہ وہ وقتاً فوقتاًعلاقائی بنچوں کے لئے ججز کی نامزدگی عمل میں لائے جبکہ ترمیمی کلاز 3-A کے تحت تمام مقدمات جو کہ بہاولپور، ملتان اور راولپنڈی سول ڈویژن سے متعلقہ تھے اور ترمیمی آرڈرسے پہلے لاہور ہائی کورٹ میں زیر التواء تھے، بالترتیب متعلقہ علاقائی بنچوں میں منتقل ہوگئے۔ ترمیمی کلاز 3-Cکے تحت چیف جسٹس کو یہ اختیاربھی حاصل ہوا کہ وہ علاقائی بنچوں کے دائرہ کار بابت اختیار ِ سماعت کا تعین کریں، لاہور ہائی کورٹ میں زیر التواء مقدمات کی علاقائی بنچوں یا سرکٹ کورٹس میں یا پھر سرکٹ کورٹ سے علاقائی بنچ میں منتقلی یا پھر اسی طرح سے سرکٹ کورٹ یا لاہور ہائی کورٹ میں منتقلی، علاقائی، بنچوں یا سرکٹ کورٹس کے ججوں کے لئے بغرض سماعت مقدمات کی درجہ بندی اور دیگر متفرق متعلقہ معاملات کی بابت فیصلہ کرے۔ آرڈیننس کے تحت چیف جسٹس کو یہ اختیار بھی دیا گیا کہ وہ بذریعہ تحریری حکم اپنے تمام یا ان میں سے چند اختیارات کسی کو وقتاً فوقتاً تفویض کردیں اور اسی طرح سے اسے واپس لے لیں۔ 24مارچ کو عبوری آئینی حکم نامہ CMLA 10/1981(بعد ازاں پی سی اوکے نام سے تذکرہ کیا جائے گا) جاری کیا گیا جس کے کل 18آرٹیکلز میں سے 10آرٹیکلز سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ سے متعلق تھے۔ آرٹیکل 5اور 6کے تحت سپریم کورٹ میں ایڈہاک ججز کی تقرری کا طریقہ کار دیا گیا جبکہ سپریم کورٹ کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ ایک ہائی کورٹ سے مقدمہ دوسری ہائی کورٹ میں منتقل کر سکے۔ آرٹیکل 7کی کلاز 3کے تحت لاہور ہائی کورٹ کے علاقائی بنچ بہاولپور، ملتان اور راولپنڈ ی میں قائم کیے گئے جبکہ کلاز 4کے تحت چیف جسٹس ہائی کورٹ کو اختیار دیا گیا کہ وہ ان قائم کردہ بنچزپر وقتاً فوقتاً ججز کی نامزدگی کرے جنکا دورانیہ ایک سال سے کم نہ ہو۔ آرٹیکل 1 کے مطابق قرار دیا گیا کہ پی سی او کے نافذ ہونے سے قبل ہائی کورٹ کی پرنسپل سیٹ جہاں سے پہلے قائم تھی بعد ازاں بھی وہیں پر موجود رہے گی جبکہ کلاز(2) کے مطابق ہر ہائی کورٹ، اس کے ججزاور اس کی ڈویژنل کورٹس کو پرنسپل سیٹ اور علاقائی بنچوں پر نشت سنبھالنا تھی جبکہ وہ اپنے علاقائی دائرہ کار کے اندر کسی بھی جگہ سرکٹ کورٹ قائم کر سکتی تھیں جوکہ چیف جسٹس کی جانب سے نامزد کردہ ان ججز پر مشتمل ہوتی تھی۔ آرٹیکل کی کلاز 6کے تحت گورنر کو اختیار دیا گیا کہ متعلقہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی مشاورت سے علاقائی بنچوں کے دائرہ اختیار اور اس سے متعلقہ دیگر ضمنی امور کے متعلق قواعد بنا سکیں۔ آرٹیکل 8میں چیف جسٹس کی غیر موجودگی یا فرائض کی ادائیگی سے معذوری یا کسی وجہ سے چیف جسٹس کے عہدہ کے خالی ہونے کی صورت میں قائم مقام چیف جسٹس کی تعیناتی کا اصول وضع کیا گیا۔ آرٹیکل 9کے ذریعے ہائی کورٹ کو پی سی او کی ترمیم سے قبل کے آرٹیکل 199کے تحت حاصل شدہ رِٹ جاری کرنے کے مساوی اختیارات دئیے گئے۔ آرڈر کے آرٹیکل 10کے تحت آئین کے آرٹیکل 200کے متوازی ججز کو ایک ہائی کورٹ سے دوسری ہائی کورٹ میں مستقل کیے جانے کے اختیارات بھی دئیے گئے تا ہم ایک ترمیم یہ کی گئی کہ آرٹیکل 200کی کلاز 3میں بیان کردہ دیگر ہائی کورٹ کے ساتھ ساتھ ہائی کورٹ کے علاقائی بنچز کو بھی اس میں شامل کیا گیا۔ آرٹیکل 15کے تحت 5جولائی 1977؁ء کے ا علامیہ، تمام صدارتی حکمناموں اور چیف مارشل لاء کے حکمناموں وغیرہ کو آئین کے آرٹیکل212-Aکی طرز پر تحفظ فراہم کیا گیا۔ آرٹیکل 17 کے تحت صدرِ پاکستان اور چیف مارشل لا ء ایڈمنسٹر یٹر کے حلف کا ذکر کرتے ہوئے مزید بیان کیا گیا کہ انہیں ہمیشہ آئین میں ترمیم کرنے کا اختیار حاصل رہے گا۔ آرٹیکل 17میں سپریم کورٹ، ہائی کورٹ اور فیڈرل شریعت کورٹ کے ججز کے حلف سے متعلق بھی بیان کیا گیا۔ اسی آرٹیکل کی کلاز (1)کے مطابق قرار دیا گیا کہ پی سی او کے جاری ہونے سے فوری پہلے عہدوں پر براجمان چیف جسٹس آف پاکستان اور سپریم کورٹ کے دیگر ججز اور تما م ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان اور دیگر ججز، چیئرمین اور ممبران فیڈرل شریعت کورٹ اُس وقت تک اپنے عہدوں پر برقراررہ سکیں گے جب تک کہ وہ جدول میں دیا گیاحلف، صدرکی طرف سے مقررکردہ وقت یا بڑھائے گئے وقت کے اندر نہیں لیتے یا پھر اُن سے اگر اِس دورانیہ میں نیا حلف نہیں لیا جاتا۔ کلاز (2) کے تحت، جس شخص نے کلاز(1)میں دیا گیا حلف لیا ہو وہ پی سی او کا پابند ہو گا اور کسی بھی عدالت کی طرف سے پی سی اوکے بارے میں کسی فیصلہ سے قطع نظر، وہ پی سی او کی کسی شق سے متعلق کسی قسم کا سوال نہیں اٹھا سکے گا۔ چیف جسٹس اور دیگرہائی کورٹس کے ججز کے لئے بیان کئے گئے حلف میں انہیں اپنی ذمہ داریاں اپنی مکمل صلاحیتوں، ایمانداری اور ذمہ داری کے ساتھ ساتھ 1981کے جاری کردہ پی سی او کے مطابق ادا کرنے کا پابند بنایا گیا۔ 16جولائی کو لاہور ہائی کورٹ اسٹیبلشمنٹ آف بینچز رولز 1981وضع کیے گئے جس میں علاقائی بینچوں پر انتظامی اُمور نمٹانے اور مقدمات کی دائرگی اور فیصلہ جات بینچوں کے دائرہ کار کے اندر ممکن بنانے کے لئے رجسٹریز قائم کی گئیں۔ اس کے تحت چیف جسٹس کو یہ اختیار بھی دیا گیا کہ وہ مقدمات کی نوعیت کے مطابق کسی بھی مقدمہ کو پرنسپل سیٹ اور علاقائی بینچوں کے مابین منتقل کردیں اور مزیدبرآں مقدمات اور خاص طرز کے مقدمات کے بارے میں یہ طے کر دیں کہ ان کی سماعت پرنسپل سیٹ پر ہوگی یا علاقائی بینچوں پر اور اس کے ساتھ ساتھ مختصر دورانیے کیلئے ججز کو پرنسپل سیٹ، علاقائی بنیچ یا سرکٹ کورٹ میں مقدمات کی سماعت کے لئے مقرر کریں اور علاقائی بینچوں کے علاقائی دائرہ اختیار کو طے کریں تا کہ ان کی کاکردگی بہتر سے بہتر ہو سکے۔ رولز کے تحت اُن ججوں کی تنخواہیں اور مراعات بھی بیان کی گئیں جنہیں پی سی او (عبوری آئینی حکم 1981) کے آرٹیکل 7(5) کے تحت بینچوں کے لئے نامزد کیا گیا تھا 23ستمبر1981؁ء کو قائم مقام چیف جسٹس صاحب کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ طے کیا گیا کہ مستقل بنیادوں پر قائم شدہ علاقائی بینچوں کے دائرہ کار میں آنے والے تمام مقدما ت آئندہ متعلقہ بینچوں میں ہی دائر اور فیصلہ کیے جائیں گے تا ہم مختلف نوعیت کے مخصوص مقدمات کو پرنسپل سیٹ پر سنا جائے گا۔ اس ضمن میں آئینی تشریح سے متعلق معاملات، ٹیکسوں کے متعلق تمام معاملات، کمپنیز ایکٹ کے تحت تمام مقدمات، زمینی اصلاحات سے متعلق مقدمات اور دیگر ایسے مقدمات جن میں بنیادی طور پر وفاقی اور صوبائی سیکرٹری کا حکم یا ممبر بورڈ آف ریونیو کا حکم چیلنج کیا گیا ہو اور اس کے ساتھ ساتھ تمام ایسے مقدماتِ قتل کے یفرنسز بھی لاہور میں زیرسماعت لائے جاسکیں گے جن میں فوری طور پر ریلیف کی استدعاکی گئی ہو۔ اس نوٹیفکیشن کا مقصد ان تمام شکوک اور شہبات کو دور کرنا تھا جوکہ مقدمات کی پرنسپل سیٹ پر سماعت سے متعلقہ تھے اور ضروری طور پر مختلف سرکاری محکموں کی اُن درخواستوں کو بھی پذیرائی دینا تھا جن میں استدعا کی گئی تھی کہ اُن سے متعلقہ مقدمات صرف پرنسپل سیٹ پرہی سماعت کیے جائیں تا کہ وہ محکمے بہتر طور پر معاونت فراہم کر سکیں۔ 28فروری 1982کو آئینی ترمیمی آرڈر P.O20 of 1982 کے ذریعے آئین پاکستان کے آرٹیکل 181کی کلاز (1)میں وضاحت کا اضافہ کیا گیا، جس کے تحت ایک ہائی کورٹ سے سبکدوش ہونے والے جج کو سپریم کورٹ کا قائم مقام جج مقرر کرنا ممکن ہو سکا۔ 10اپریل 1982کو قائم مقام چیف جسٹس نے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے سابقہ نوٹیفکیشن میں ترمیم کر دی جس کے بعد علاقائی بینچوں کے دائرہ کار میں آنے والے تمام دیوانی، فوجداری اور آئینی معاملات کی سماعت اور فیصلوں کا اختیار انہی بینچوں کو تفویض کر دیا گیا اور محض چند مخصوص نوعیت کے مقدمات ہی پرنسپل سیٹ پر سماعت اور فیصلے کیلئے مختص کیے گئے۔ ان مخصوص نوعیت کے مقدمات میں مقدمہ ِ قتل کے ریفرنس بھی شامل تھے، تاوقتیکہ اس ضمن میں اپیل کنندہ خود استدعا کرے۔ اسی طرح سنگل جج کے فیصلے کے خلاف دائر کی جانے والی اپیل جبکہ اس بنچ میں ڈویژن بینچ دستیاب نہ ہوا اور ایسی درخواستیں دیگر بینچ یا پرنسپل سیٹ پر فوری منتقلی کی بابت دائر کی گئی ہوں۔ ضمانت قبل از گرفتاری کے معاملات میں جبکہ درخواست گذار پرنسپل سیٹ پر موجود ہو اور فوری طور پر عبوری رعایت حاصل کرنا چاہتا ہو اور اسکے ساتھ ساتھ جب کوئی درخواست گذار کسی ماتحت عدالت میں زیر التواء مقدمہ کو کسی دیگر علاقہ کی ماتحت عدالت میں منتقل کروانا چاہتا ہو جبکہ وہ دونوں عدالتیں مختلف علاقائی بینچوں یا پرنسپل سیٹ کے دائرہ کار میں ہوں۔ 1988سے 1999تک سیاسی حکومتوں کے تحت آئین پاکستان کے تابع عدالتوں نے کام کیا اور ما سوائے عدلیہ اور انتظامیہ کے مابین کبھی کبھار معمولی اختلاف ہونے کے عدلیہ نے آئین کے تابع ہی کام جاری رکھا۔ اس دوران ججوں کی تقرری سے متعلق آئین پاکستان کے مختلف آرٹیکل سپریم کورٹ میں زیر بحث آئے جن کی منشا ء یہ تھی کہ عدلیہ کی آزادی اوراس کی انتظامیہ سے علیحدگی کو یقینی بنایا جا سکے۔ سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں کے ذریعے یہ واضح کیا گیا کہ سپریم کورٹ میں جج کی تعیناتی کے لئے سیاسی سربراہِ حکومت کو چیف جسٹس سے بامعنی مشاورت کرنا لازمی ہو گا جبکہ کسی ہائی کورٹ میں جج کی تعیناتی کے لئے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے بامعنی مشاورت یقینی بنانا ہو گی۔ 1999؁ء میں ملک میں ماشل لاء کا نفاذ ہو گیا اور تب کے چیف آف آرمی سٹاف نے آئین کو معطل کر دیا۔ ایک نیا پی سی او (عبوری آئینی حکم) جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ ملک کے معاملات عبوری آئینی حکم کے تحت چلائے جائیں گے جو کہ جس حد تک ممکن ہو آئین پاکستان 1973؁ء کے مطابق ہو گا۔ 2001میں اعلیٰ عدلیہ کے ججز نے پی سی او کے تحت حلف لیا اور جنہو ں نے حلف لینے سے معذرت کی یا جنہیں حلف نہ دیا گیا، انہیں عہدوں سے سبکدوش کر دیا گیا۔ مارچ2007 ؁ء میں چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کو معزول کرتے ہوئے ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کر دیا گیا۔ سپریم کورٹ نے تاریخی فیصلے کے ذریعے ریفرنس کو بدیانتی پر مبنی قرار دیتے ہوئے افتخار محمد چوہدری کو چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے پر دوبارہ بحال کر دیا۔ چیف آف آرمی سٹاف /صدر پاکستان نے ایک اور انتہائی قدم اٹھاتے ہوئے 3نومبر 2007؁ء کو ملک میں ایمر جنسی نافذ کر دی اور بشمول افتخار محمد چوہدری اعلیٰ عدلیہ کے بیشتر ججز کو گھروں میں نظر بند کر دیا اور ایمر جنسی /اختیارات کے تحت عہدوں سے معزول کر دیا۔ تا ہم عوام، سول سوسائٹی، بار اور میڈیا کی تاریخی تحریک کے نتیجے میں 16مارچ 2009؁ء کو چیف جسٹس آف پاکستان سمیت اعلیٰ عدلیہ کے تمام دیگر معزول ججز اپنے اپنے عہدوں پر دوبارہ بحال ہو گئے۔

ججز کی تعیناتی کا نیا طریقہ کار

اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تعیناتی کا طریقہ کار حکومت، اعلیٰ عدلیہ، عوام، میڈیا اور بار میں ہمیشہ سے موضوع بحث رہا ہے۔ اس دیرینہ معاملے کو مستقل طور پر حل کرنے اور اعلیٰ عدلیہ میں تعیناتی کا طریقہ کار وضع کرنے کے لئے اٹھارویں آئینی ترمیم منظور کی گئی جس میں ایک جوڈیشل کمیشن اور پارلیمانی کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا جس کا کام اعلیٰ عدلیہ میں بطور جج تعیناتی کیلئے اہلیت رکھنے والے امیدواران کا انتخاب کرنا ہے۔ سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں اس ترمیم میں بذریعہ 19ویں ترمیم مزید تبدیلی کی گئی تا کہ عدلیہ کی آزادی اور انتظامیہ سے علیحدگی کو یقینی بنایا جا سکے اور اُن اُمور کو حل کیا جا سکے جن پر 18ویں ترمیم کے بعد کچھ سوال اٹھ کھڑے ہوئے تھے آرٹیکل 175-Aکے ذیلی آرٹیکل 5کے مطابق اب ہائی کورٹ کے جج کی تقرری بذریعہ جوڈیشل کمیشن عمل میں لائی جاتی ہے۔ مذکورہ آرٹیکل کے مطابق تقرری کا طریقہ ِ کار اس طرح ہے:۔ آرٹیکل 175-A(5): عدالت ِ عالیہ کے ججوں کے تقررکے لئے کمیشن شق (2) کے مطابق حسب ذیل کو بھی شامل کر ے گا، یعنی ; (اول) اُس عدالتِ عالیہ کا چیف جسٹس جس میں تقرری درکار ہے: (رکن) (دوئم) اُس عدالت ِ عالیہ کا سینئر ترین جج: (رکن) (سوئم) صوبائی وزیر ِ قانون، اور (رکن) (چہارم) ایک وکیل جو عدالتِ عالیہ میں پندرہ سال سے کم پریکٹس نہ رکھتا ہو اور جسے متعلقہ بار کونسل دو سالہ مدت کے لئے نامزد کرے۔ (رکن) مگر شرط یہ ہے کہ عدالتِ عالیہ کے چیف جسٹس کے تقرر کے وقت پیراگراف (دوئم) میں مذکورسینئر ترین جج کمیشن کا رکن نہ ہو گا۔ مگر یہ شرط یہ ہے کہ اگر کسی وجہ سے عدالت عالیہ کاچیف جسٹس دستیاب نہ ہو تو اُسے سابقہ چیف جسٹس یا اُس عدالت کے کسی سابقہ جج سے تبدیل کر دیا جائے گا۔ جس کی نامزدگی چیف جسٹس آف پاکستان چار رکن جج صاحبان کی مشاورت سے کرے گا جو شق (2)کے پیراگراف (دوئم) میں مذکور ہے۔ آئین کے آرٹیکل 175-Aکے ضمنی آٹیکل 8کے مطابق کمیشن اپنے کل اراکین کی اکثریت سے پارلیمانی کمیٹی کے لئے ایک شخص کو عدالتِ عظمیٰ، عدالتِ عالیہ یا وفاقی شرعی عدالت (جو بھی صورت ہو)، کی ہر ایک اسامی کے لئے نامزدکرے گا۔ آئین کے آرٹیکل 175-Aضمنی آرٹیکلز 9تا 17میں جوڈیشل کمیشن اور وزیر اعظم /صدر کے مابین باہمی تعلقات کے خدوحال ضابطہ کار اور اختیارات مندرجہ ذیل طریقہ سے بیان کیے گئے ہیں۔ ذیلی آرٹیکل

9:۔ پالیمانی کمیٹی، جس کا حوالہ بعد ازیں اس آرٹیکل میں بطور کمیٹی کے دیا گیا ہے حسب ذیل آٹھ اراکین پر مشتمل ہو گی، یعنی:۔

              (اول) سینٹ سے چار اراکین، اور

            (دوئم) قومی اسمبلی سے چار اراکین مگر شر ط یہ ہے کہ جب قومی اسمبلی تحلیل ہو جائے، تو پارلیمانی کمیٹی کی تمام رکنیت پیراگراف(اول) میں مذکورہ صرف سینٹ کے اراکین پر مشتمل ہو گی اور اس آرٹیکل کے احکامات کا بہ تغیرمناسب اطلاق ہو گا۔

10۔ کمیٹی کے آٹھ اراکین میں سے، چار حکومتی نشستوں، (ہر ایوان سے دو) اور چار حزب اختلاف (ہر ایوان سے دو) سے ہوں گے۔ حکومتی نشستوں سے اراکین کی نامزدگی قائد ایوان اور مخالف بینچوں سے قائد حزب اختلاف کرے گا۔ -

11- سینٹ کا سیکرٹری کمیٹی کے سیکرٹری کے طور پر کام کرے گا۔ -

12- کمیٹی کمیشن کی جانب سے نامزدگی موصول ہونے پر نامزدگی کی توثیق اپنے ارکان کی مجموعی اکثریت سے چودہ دن کے اندر اندر کرے گی، جس میں ناکام رہنے پر نامزدگی توثیق شدہ متصور ہو گی۔ مگر شرط یہ ہے کہ کمیٹی اگر نامزدگی کی منظور نہیں دیتی تو وہ اپنے فیصلے کی وجوہات قلمبند کرتے ہوئے بذریعہ کمیشن وزیراعظم کو ارسال کرے گی۔ مزید شرط یہ کہ اگر نامزدگی کی منظور ی نہ ہو تو کمیشن ایک اور نامزدگی بھیجے گا۔ -

13- کمیشن یا کمیٹی کی جانب سے اٹھایا گیا کوئی قدم یا کیا گیا کوئی فیصلہ باطل نہیں ہو گا یا اُس پر اعتراض صرف اس وجہ سے نہ کیا جائے گا کہ اِس میں کوئی اسامی خالی ہے یا اس کے کسی بھی اجلاس سے کوئی بھی رکن غیر حاضر ہے۔ 

15- کمیٹی کے اجلاسوس کا انعقاد بند کمرے میں ہو گا اور اس کی کارروائیوں کا ریکارڈ برقرار رکھا جائے گا۔ -

16- آرٹیکل 68کے احکامات کا اطلاق کمیٹی کی کارروائیوں پر نہیں ہو گا۔ -

17- کمیٹی اپنے طریقہ کار کو منضبط کرنے کے لئے قواعد وضع کر سکے گی۔